پاکستان میں سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ پاک بھارت تناؤ سے متعلق پاکستان کی تشویش جائز ہے ، فریقین کو قریب لانا ہمارا کام ہے ، مل کر مسائل کا حل خود نکالنا ہوگا ، پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کرے گی ، اس سے دوسرے ممالک بھی فائدہ اٹھائیں گے ، بعض شخصیات اور سیاستدان نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہوں ، لیکن پاکستان کا مستقبل تابناک دیکھ رہا ہوں۔ وہ ہفتہ کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے نہیں خطے کی بہتری کیلئے بات کرتا ہوں ، پاک بھارت تنا? سے متعلق پاکستان کی تشویش جائز ہے۔ فریقین کو قریب لانا ہمارا کام ہے مگر مسائل کا حل فریقین کو خود ہی نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہوں ، پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ اقتصادی راہداری سے خطے کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاک افغان تعلقات میں اتار چڑھا? کی کئی وجوہات تھیں ، پاک افغان تعلقات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے جب سفیر تھا تو خود سیکیورٹی معاملات دیکھتا تھا۔ خطرات ضرور درپیش ہیں ، بعض شخصیات اور سیاستدان نہیں چاہتے کہ حالات بدلیں لیکن پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری کیلئے منصوبہ بندی کرنا ہوگی ، پشاور حملے کے بعد دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔
News In Urdu
Saturday, 29 August 2015
پاک بھارت تناؤسے متعلق پاکستان کی تشویش جائز ہے ، فریقین کو قریب لانا ہمارا کام ہے ، مل کر مسائل کا حل خود نکالنا ہوگا ، پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کرے گی ، اس سے دوسرے ممالک بھی فائدہ اٹھائیں گے ، بعض شخصیات اور سیاستدان نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہوں ، پاکستان کا مستقبل تابناک دیکھ رہا ہوں پاکستان میں سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کاتقریب سے خطاب
90فیصدنیوکلیئر ہتھیاروں کے مالک صرف دو بڑے ممالک
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آج پوری دنیا میں ایٹمی تجربات کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر امن کے فروغ کے ساتھ ساتھ بدامنی کا باعث بننے والے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے اقدامات بھی اٹھانا ہے۔ تاہم ایٹمی طاقتیں ناصرف اپنے ہتھیاروں کو تلف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں بلکہ وہ اس وقت بھی سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں جس کا اندازہ اس امر سے بااسانی لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کہ 90 فیصد سے زائد نیوکلیئر ہتھیاروں کے مالک صرف دو بڑے ملک ہیں جن میں 7500کے ساتھ روس اور 7200 کے ساتھ امریکہ شامل ہیں۔ ایٹمی تجربات کے خلاف منائے جانے والے عالمی دن کے حوالے سے مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار حاصل کئے ہیں اس کے مطابق دنیا میں آج بھی 10292 نیوکلیئر وار ہیڈ مختلف عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال میں ہیں۔ انٹرنیشنل آرمڈ کنٹرول ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق 46 فیصد یعنی 4717 نیوکلیئر وارہیڈ امریکہ نے اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نصب کر رکھے ہیں جبکہ 44 فیصد یعنی 4520 کے ساتھ روس دوسرے ،3 فیصد یعنی 300 کے ساتھ فرانس تیسرے ،2 فیصد یعنی 250 کے ساتھ چین چوتھے اور 2 ہی فیصد یعنی 225 کے ساتھ برطانیہ پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان 110کے ساتھ چھٹے، بھارت 100 کے ساتھ ساتویں، اسرائیل 80 کے ساتھ آٹھویں اور جنوبی کوریا 10 کے ساتھ نویں نمبر پر ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا میں 8 ایٹمی قوتیں ہیں تاہم اسرائیل نے کوئی ایٹمی تجربہ تو نہیں کیا لیکن وہ بھی بھرپور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا آٹھواں ملک ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی سے ناصرف خطے میں امن کی فضاء بڑی طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ اس سے خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ بھی پہلے سے تیز ہو چکی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ بھارت کی خطے میں اجارہ داری پاکستانی ایٹمی صلاحیت کے باعث مدھم پر چکی ہے بھارت ہمیشہ پاکستان پر اپنی عسکری اور ایٹمی بالادستی قائم رکھنے کے لئے کوشش کر تارہا ہے خصوصا بھارت میں انتہا پسند حکومتیں پاکستان کوکچلنے کے خواب دیکھتی رہتی ہیں تاہم پاکستانی ایٹمی اور میزائل صلاحیت نے ہمیشہ بھارت کے مذموم اراداروں کو ناکام بنا یا اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان خطے میں بھارتی اجارہ داری کو ختم کرنے میں اہم ملک ثابت ہوا ہے۔عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوتی تعدادکو روکنے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے جس سے گزشتہ نصف عشرے کے دوران عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں 30 فیصد کمی ہوئی۔
ایک ایماندار جج کے چھ سوالات
آج ایک ایسے شخص کی وکالت میں مجھے قلم اٹھانا ہے‘ ایسے فرد کے کردار کی گواہی دینا ہے کہ جس کے بارے میں میرا یقین ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو روز حشر مجھ سے ضرور سوال کیا جائے گا۔
مجھے سید الانبیاء ﷺ کی حدیث میں درج اس انجام کا بھی خوف ہے جو ہادی برحقؐ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ’’اگر کسی نے اپنے مومن بھائی کی اس وقت مدد نہ کی جب اس کو بے آبرو کیا جا رہا تھا تو اللہ اس کو ایسے وقت میں تنہا چھوڑ دے گا جب اسے بے آبرو کیا جا رہا ہو اور وہ مدد کے لیے لوگوں کی جانب دیکھ رہا ہو‘‘۔
مجھے پاکستان کی عدلیہ کے ایک ایسے باکردار‘ منصف مزاج‘ ایماندار اور صالح شخص کے حق میں ایسے وقت میں گواہی دینے کا شرف حاصل ہو رہا ہے جب جمہوری اقدار کے پروانے اور آزادی اظہار کے دیوان اس کی کردار کشی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اللہ مجھے اس ذمے داری کا حق ادا کرنے کی توفیق دے کہ مجھ سے دہرا سوال ہو گا۔ مجھے اللہ نے قلم کی طاقت عطا فرمائی اور پھر اسی اللہ نے اس طاقت کو پذیرائی بخشی۔ اللہ میری خطاؤں کو معاف فرمائے اور اس دوران میں جو لکھوں اس پر فیصلہ کرتے ہوئے میرے حسن ظن اور نیک نیتی کو سامنے رکھے۔
آج سے تقریباً دو دہائیاں قبل گوجرانوالہ میں ایک سیشن جج کے خلاف وہاں کے وکلاء نے ہڑتال کر دی اور اس کے تبادلے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ پنجاب ہائی کورٹ کی سربراہی اس وقت جسٹس فلک شیر کے پاس تھی۔ وکلا تنظیموں کا بڑا گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور انصاف تو بنچ اور بار کا یرغمال ہے۔ کس کو کب‘ کیسا‘ کتنا مہنگا اور کتنی دیر میں انصاف ملے گا اس کا فیصلہ بنچ اور بار مل کر کریں گے۔
اس جج نے اس روایت کو توڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ بحیثیت سیشن جج میری ذمے داری سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔ پنجاب کے موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس اس وقت گوجرانوالہ میں ڈی آئی جی تھے۔ تمام تھانوں کے سربراہوں کو بلایا گیا اور جج صاحب نے ان سے کہا کہ آپ بلاوجہ تعمیل میں دیر نہیں کریں گے اور گواہوں کو غیر ضروری طور پر پیشی سے نہیں بھگائیں گے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی وکیل کو بلاوجہ تاریخ نہیں دوں گا۔
اس کے بعد کیسوں کے فیصلے ہونا شروع ہوئے۔ گوجرانوالہ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ایک قتل کے کیس کا فیصلہ کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار دن میں کیا جانے لگا۔ صرف چند مہینوں کے اندر تمام وکلا اپنے چیمبرز میں ہاتھ پہ ہاتھ ڈالے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہڑتال شروع ہوئی۔ جسٹس فلک شیر تک اس ہڑتال کی گونج پہنچی۔ پوچھا مسئلہ کیا ہے۔ وکیلوں کی زبان میں کہا‘ یہ سیشن جج ہمیں ’’ریلیف‘‘ نہیں دیتا۔ ’’ریلیف‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جو پاکستان کے عدالتی نظام میں سکہ رائج الوقت ہے۔
وکیل عدالت سے پیشیاں اور تاریخیں لینے جب تک اپنے موکل کو ہلکا نہ کر لیں‘ ان کو مقروض نہ بنا لیں‘ ان کی جائیداد بکوا لیں نہ ان کی وکالت کا رعب پڑتا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی خوشحال ہوتی ہے۔ فلک شیر بھی خوش قسمتی سے ایسے چیف جسٹسوں میں سے تھا جن پر بار کا ناجائز رعب نہیں چلتا تھا۔ کاظم علی ملک نے کہا میں نے گزشتہ پندرہ سال سے التواء کا شکار مقدمے ختم کر دیے۔ لوگوں ایک جانب ہو گئے۔
جو مطمئن تھے وہ چین سے سو گئے اور جو غیر مطمئن تھے وہ اپیل میں چلے گئے۔ فلک شیر کا اگلا سوال وکلا سے تھا‘ اب صاف صاف بتاؤ‘ کچھ صاف گو وکلا نے کہا ہم چیمبر بند کر کے چابیاں آپ کو دے دیتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کاظم علی ملک نے کہا کہ جتنے لیڈر میرے خلاف ہڑتال کر رہے ہیں وہ مجھے پہچانتے تک نہیں۔ وہ آج تک میری عدالت میں پیش تک نہیں ہوئے۔ یہ میرا اس انسان سے ایک غائبانہ تعارف تھا۔ روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگاراوریامقبول جان نے اپنے کالم میں لکھاہے ان دنوں میں خود ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت پر فائز تھا۔ یوں لگا جیسے کسی نے میرے راستے کے آگے آگے مشعل رکھ دی ہو اور اس مشعل کو کاظم علی ملک نے تھاما ہوا تھا۔ میں اس شخص کی ٹوہ میں لگ گیا۔ اسے جاننے کی کوشش کرنے لگا۔
ضلع خوشاب کے قصبے نور پور تھل میں یکم اکتوبر 1949ء کو پیدا ہونے والے کاظم علی ملک نے جوہر آباد ڈگری کالج سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ یہ زمانہ طلبہ یونینوں کا زمانہ تھا۔ وہ 1968ء میں کالج یونین کا صدر بھی منتخب ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کا امتحان پاس کرنے کے بعد اس نے جوہر آباد اور سرگودھا میں وکالت شروع کر دی۔
1987ء میں اسے ایڈیشنل سیشن جج مقرر کیا گیا۔ یہاں سے ماتحت عدلیہ میں ایک قابل فخر سپوت کی آمد ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں اس کا مقدمات کو فیصلے کرنے کا انداز وہی تھا جو گوجرانوالہ میں تھا۔ پنجاب میں بھلوال ان تحصیلوں میں سے ہے جہاں جرائم کی کثرت ہے۔ تین ماہ بعد بھلوال کے تمام زیر التوا مقدمات کے فیصلے ہو چکے تھے۔ انھیں کہا گیا آپ سرگودھا کا بھی چارج ساتھ ہی رکھ لیں۔ یہ اور ایسی کہانیاں میانوالی اور لیہ میں بھی عوام آپ کو سنائیں گے۔
2008ء میں وہ منزلیں طے کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔ عدلیہ کی آزادی کا غلغلہ تھا۔ مشرف اور پھر زرداری کے بنائے ہوئے ڈوگر عدالت کے جج ایک ہی فیصلے سے ختم کر دیے گئے۔ کاظم علی ملک کا یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ کیا یہ اس کے بس میں تھا کہ وہ اس سال اپنی پرموشن کی سطح پر پہنچتا کہ جب ڈوگر چیف جسٹس تھا۔ واپس سیشن جج بنے‘ ریٹائر ہوئے اور پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن لگا دیے گئے۔ یہاں بیوروکریسی سے ان کی ٹھن گئی۔
کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا عہدہ جسے بیوروکریسی نے اس لیے تخلیق کیا ہو کہ ان کی مرضی کی کارروائیاں ہوں‘ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے کہ ہم کرپشن کے خلاف بہت کچھ کر رہے ہیں۔ ایک ایسا چیف سیکریٹری ان کے خلاف ہوا جو ہمیشہ سیاست دانوں کی آنکھ کا تارا رہا ہے اور جس کے ہاں اطاعت گزاری ہر اصول پر فوقیت رکھتی تھی۔
صرف ایک فقرہ کافی تھا کہ اگر کاظم علی ملک اینٹی کرپشن کے محکمے میں رہا تو جس طرح بیورو کریسی پر وہ ہاتھ ڈال رہا ہے‘ آیندہ الیکشنوں میں آپ اپنا انجام سوچ لیں۔ یہ فقرہ کسی بھی وزیراعلیٰ کے پاؤں تلے سے زمین نکالنے کے لیے کافی تھا۔ ہٹا دیے گئے کہ اس تباہ حال سسٹم میں ایماندار اور با اصول شخص کا یہی انجام ہوتا ہے۔
میں ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام متبادل کے نام سے کرتا ہوں۔ جس میں موجودہ نظام کی ناکامی پر بحث کے بعد ایک متبادل دیا جاتا ہے۔ عدلیہ کے حوالے سے کاظم علی ملک میرے مہمان تھے۔ ان کا ایک ایک فقرہ عدلیہ کی تاریخ بدل سکتا ہے۔ کہا اگر واقعی ہمارے جج ایمانداری سے کام کریں اور وکیلوں کے رزق میں اضافہ کرنے کے لیے تاریخیں نہ دیں تو عدالتوں پر اتنا کم بوجھ ہے کہ آدھے جج فارغ کرنا پڑیں گے۔
آدھے سے زیادہ سول کیس صرف ایک پیشی پر ختم کیے جا سکتے ہیں اور قتل جیسا مقدمہ بھی تین دن لگاتار شنوائی کے بعد فیصلے تک جا پہنچتا ہے۔ کہا‘ دیکھو لوگوں کو عدالتوں میں بلاؤ فیصلوں کے لیے‘ اپنے برآمدوں کی رونق بڑھانے کے لیے نہیں۔ اللہ جس کو عدل کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف کی توفیق دے‘ اس کا اپنے کردار پر اعتماد دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔
میں نے آج سے چھ ماہ قبل اسی پروگرام میں این اے 122 کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے اتنا کہا کہ میرے ماں باپ کی تربیت‘ اور میرے اللہ کا کرم یہ ہے کہ اللہ نے مجھ سے غلط کام کرنے کی توفیق ہی چھین لی ہے۔ فیصلے پر کوئی تبصرہ نہ کیا۔ لیکن فیصلہ آنے کے بعد مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ فیصلہ کیا آیا۔ مجھے اس فیصلے کے آغاز میں جسٹس کاظم علی ملک نے جو چھ سوال خود سے کہے ہیں وہ اس قوم کے سامنے رکھنا ہیں۔
ان سوالات میں ایک درد بھی چھپا ہے اور آپ اس دباؤ کا بھی اندازہ کر سکتے ہیں جو اس صاحب ایمان جج پر تھا۔ کاظم علی ملک لکھتے ہیں۔ فیصلے سے پہلے میں نے اپنے ضمیر سے چھ سوال کیے۔ -1 کیا میں صرف خور و نوش کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ -2 کیا میں کھونٹے پر بندھے اس جانور کی طرح ہوں جسے اپنے چارے کی فکر ہوتی ہے۔-3 کیا میں ایک بے لگام درندہ ہوں جسے کھانے کے سوا اور کسی چیز سے سروکار نہیں ہوتا۔-4 کیا مجھ میں دین‘ ضمیر یا اللہ کا خوف نہیں ہے۔-5 کیا مجھے اس کائنات میں بلا روک ٹوک ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔
-6 کیا مجھے یہ حق ہے کہ میں صراط مستقیم کو چھوڑ کر باطل قوتوں کی راہوں میں بھٹکتا رہوں۔ یہ چھ سوال پاکستان کے ہر اس فرد کو اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہئیں جو اس مکروہ اور گلے سڑے نظام میں اس بات پر جھک جاتا ہے‘ حق کی راہ میں ہٹ جاتا ہے کہ اقتدار پر قابض افراد اس کی اور اس کے خاندان کی جانوں کے دشمن ہو جائیں‘ انھیں کی زندگیاں مشکل کر دیں گے‘ انھیں بے موت مار دیں گے۔
اگر ان کا ضمیر ان کا جواب نفی میں دے تو سمجھو وہ اس دنیا میں بھی سرخرو اور آخرت میں بھی۔ جسٹس کاظم علی ملک نے لکھا میرے ضمیر نے ان سوالوں کا جواب نفی میں دیا تو میں نے نظریہ ضرورت کو پس پشت ڈال کر تلخ سچ بول دیا۔ سچ کی تلخی وہ کڑوی دوا ہے جو اس قوم کی تمام امراض کا علاج ہے۔
ایسی ایپ تیار جو آ پ کو گھر بیٹھے تحفے بھیجے
اسلام آباد (نیوزڈیسک )فیس بک نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) پر مبنی ایک پرسنل اسسٹنٹ متعارف کرایا ہے جو آپ کے لیے گھریلو اشیا اور تحفے خریدنے سے لے کر ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھی بک کرسکے گا۔ ایم نامی اس ایپ کو فی الحال تجرباتی طور پر شروع کیا گیا ہے اورغالباً اس کا نام جیمز بانڈ فلموں میں موجود اس کی سیکریٹری منی پینی نام پر رکھا گیا ہے، یہ ایپ لوگوں کی رائے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلے کرتی ہے اور سان فرانسسکو کے فیس بک صارفین ابھی اس کی تجرباتی آزمائش کررہے ہیں۔یہ ایپ دیگر پروگراموں کے برخلاف آپ کی جانب سے احکامات دیتی ہے اور فیصلے کرتی ہے اس کے لیے آپ کے مشوروں اور اپنی معلومات اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتی ہے۔ یہ تحفے خرید کر آپ کے دوستوں کو بھیجتی ہے اور سفر کا انتظام بھی کرسکتی ہے۔ فیس بک کے مطابق یہ ایم سروس کا ابتدائی مرحلہ ہے جسے آزمائش کے بعد مزید بہتر بنایا جائے گا۔
بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد مرید کے پر بمباری کی سازش کی، قصوری کا انکشاف
اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد مرید کے پر بمباری کی سازش کی تھی، امریکی سینٹرز کو بتادیا تھا ایسا کچھ ہوا تو بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی،پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کا عندیہ ملنے کے بعد بھارت حملہ سے باز رہا،آگرہ مذاکرات اس لئے ناکام ہوئے کہ پاکستان اور انڈیا کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا، اوفا میں وزیراعظم نواز شریف کا نریندر مودی کے پاس چل کر جانا بہت برا لگا، مودی نے اوفا میں امن کا بہت بڑا موقع ضائع کیا، یہ بات غلط ہے کہ پرویز مشرف نے کشمیر کے حل کیلئے فارمولے پر فوج کو اعتماد میں نہیں لیا، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہم نے کوئی چناب فارمولا نہیں کیا، ہمارا فارمولا نواز شریف کے فارمولے سے بالکل الگ تھا ، جنرل اسمبلی میں 2005ء میں پرویز مشرف کی انڈیا مخالف تقریر غلطی سے کردی گئی تھی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خورشید قصوری نے کہا کہ کارگل کے بعد پرویز مشرف کے رویے میں تبدیلی آئی، پرویز مشرف تنگ نظر نہیں بلکہ کھلے دل و دماغ کے مالک تھے،پرویز مشرف سب کو بٹھا کر بحث کرالیتے تھے، کئی معاملات پر آئی ایس آئی کی اور کئی پر میری بات مانی جاتی تھی،خارجہ آفس میں زیادہ تر قدامت پرست لوگ ہیں، ہمیشہ پاکستان کے قومی مفاد پر کاربند رہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا میں تاریخ کو مسخ کیا گیا، ہم نے تو قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کے ساتھ کھیل کھیلے، ہم نے قائداعظم کا سلوگن تبدیل کردیا جس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں، مسلمان اپنے مسالک بھلا کر قائداعظم کی قیادت میں اکٹھے ہوئے، اگر قائداعظم قیادت نہیں کررہے ہوتے تو پاکستان نہیں بنتا۔ انڈین کے مسلمان پس کر رہ گئے ہیں، پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہونے سے انڈین مسلمانوں کی پوزیشن بھی بہتر ہوگی۔ خورشید قصوری نے کہا کہ انڈیا کے ہارڈ لائنر ز کے مقابلے میں پاکستانی ہارڈلائنرز تو سافٹ لائنرز لگتے ہیں، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں انڈیا سے مذاکرات کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگرہ مذاکرات اس لئے ناکام ہوئے کہ پاکستان اور انڈیا کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا، اوفا کا حشر بھی اسی لئے خراب ہوا، میرے زمانے میں پاکستان اور انڈیا کی جن بارہ نکات پر انڈراسٹینڈنگ تھی ان کے علاوہ پاک بھارت مسائل کا کوئی حل نہیں ہے، اوفا میں وزیراعظم نواز شریف کا نریندر مودی کے پاس چل کر جانا بہت برا لگا، نریندر مودی نے اوفا میں امن کا بہت بڑا موقع ضائع کیا،فارن آفس اپنا کام کرتا ہے لیکن اوپر والے نہیں سنتے۔ خورشید قصوری نے بتایا کہ جنرل اسمبلی میں 2005ءمیں پرویز مشرف کی انڈیا مخالف تقریر غلطی سے کردی گئی تھی، وہ تقریر ہمارے مستقل مندوب منیر اکرم نے لکھی جو انڈیا پر سخت موقف رکھتے ہیں، میں وہ تقریر مصروفیت کی وجہ سے نہیں دیکھ سکا تھا، تقریر کے بعد جب بھارتی وفد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف صاحب آپ کی حالیہ تقریر پچھلی تقریر سے بالکل مختلف ہے، اس وقت ہم یہ نہیں مان سکتے تھے کہ تقریر ہم نے آخری لمحات میں دیکھی۔ سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہم نے کوئی چناب فارمولا نہیں کیا، ہمارا فارمولا نواز شریف کے فارمولے سے بالکل الگ تھا، یہ جاننے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے رہنماﺅں سے نجی ملاقاتیں کیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کون سا فارمولا تسلیم کرلیں گے، اگر مقبوضہ کشمیر کی قیادت ہمارا فارمولا مسترد کردیتی تو پاکستان کے عوام بھی اسے مسترد کردیتے، حریت لیڈر آج بھی ہمارے دور کے فارمولے کو درست سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فارمولے کی بنیاد یہ تھی کہ کشمیری تقسیم نہیں چاہتے، کشمیر یوں نے مجھے کہا کہ ہماری مائیں ، بہنیں اور بچے نفسیاتی مریض بن گئے ہیں، انڈین فوجیوں کی سنگینوں سے ہماری جان چھڑائیں، ہم نے محسوس کیا کہ ہمیں بھی تبدیلی لانی پڑے گی، انڈیا نے کہا اگر ہم مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالتے ہیں تو آپ آزاد کشمیر سے اپنی فوجیں نکالیں، اس پر ہمیں کوئی ڈر نہیں تھا کیونکہ ہم نے کشمیر فوجی جبر سے اپنے پاس نہیں رکھا، انڈیا نے کشمیر میں پاکستان سے آنے والے لوگوں کو روکنے کا مطالبہ کیا اس پر ہم نے انہیں کہا کہ یہ لوگ ہم سے پوچھ کر نہیں آتے لیکن ہم انہیں روکنے کیلئے اپنا مکمل اثر استعمال کریں گے، ہم نے ان لوگوں کو نارمل زندگی کی طرف لانے کیلئے سینٹرز کھولے۔خورشید محمود قصوری نے کہا کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد مرید کے پر بمباری کی سازش کی تھی، بھارت نے اس بارے میں امریکا کو بھی آگاہ کردیا تھا، پاکستان نے بھارت کو بھرپور جوابی کارروائی کا عندیہ دیا تو بھارت دبک گیا، امریکی سینٹرز کو بتادیا تھا ایسا کچھ ہوا تو بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد رچرڈ ہالبروک اور صدارتی امیدوار جان مکین نے پاکستان آکر مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ نئی دہلی میں بہت غصہ ہے ، ہمیں خطرہ ہے انڈیا پاکستان پر حملہ نہ کردے اور ہم دونوں ممالک کو جنگ سے بچانا چاہتے ہیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا اگر مرید کے پر بمباری کردی جائے تو پاکستانی عوام اور فوج کا کیا ردعمل ہوگا۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر مرید کے پر حملہ ہوا تو پاکستان فوج فوری ردعمل دے گی اور جہاں تک عوام کی بات ہے تویاد رکھئے 1998ءمیں وزیراعظم نواز شریف تمام تر امریکی مخالفت کے باوجود عوام کے دباﺅمیں ایٹمی دھماکے کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ پرویز مشرف نے کشمیر کے حل کیلئے فارمولے پر فوج کو اعتماد میں نہیں لیا، میں نے خود ایسی میٹنگز میں شرکت کی ہے جہاں پرویز مشرف فوجیوں کو اس حوالے سے بریف کیا کرتے تھے، پرویز مشرف نے آرمی چیف ہوتے ہوئے بھی اس معاملہ پر کبھی فوج کی نمائندگی نہیں کی ، ان میٹنگوں میں فوج کی نمائندگی جنرل احسن سلیم حیات جبکہ آئی ایس آئی کی نمائندگی جنرل اشفاق پرویز کیانی کرتے تھے، اسی لئے اس معاملہ میں تین سال لگے کیونکہ جنرل احسن سلیم حیات اور جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کے مفاد کا تحفظ بھی چاہ رہے ہوں گے۔ سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بھی بالکل غلط ہے کہ پرویز مشرف کے جانے کے بعد فوج کشمیر کے حل کے فارمولے سے پیچھے ہٹ گئی، ہمارے جانے کے دو سال بعد جنرل کیانی نے امریکی سفیر پیٹرسن کو کہا کہ وہی فارمولا ٹھیک ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ اگر نریندر مودی نے تاریخ میں اپنا نام لکھوانا ہے اور اپنا ترقی کا ایجنڈا پورا کرنا ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے، نریندر مودی اس وقت تضادات کا شکار ہیں، ان کی شاید خواہش ہو کہ وہ سیکنڈ الیکشن میں اسٹیٹس مین بنیں، اگر نریندر مودی نے پالیسی تبدیل نہیں کی تو بطور وزیراعظم ناکام ہوجائیں گے، ان کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے راستے پر چلنا ہوگا ورنہ جنوبی ایشیا میں بہت نقصان ہوگا۔ خورشید قصوری نے بتایا کہ کارگل کے بعد بھارتی وزیراعظم واجپائی نے فون پر وزیراعظم نواز شریف سے دلیپ کمار کی بات کروائی ، دلیپ کمار نے نوا ز شریف کو کہا کہ آپ جو کررہے ہیں اس سے انڈین مسلمان تباہ ہوجائیں گے۔
شہریار خان نے نجم سیٹھی سے اختلافات یا بورڈ میں تقسیم کی خبروں کو سختی سے مسترد کردیا
شہریار خان نے نجم سیٹھی سے اختلافات یا بورڈ میں تقسیم کی خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ، نجم سیٹھی کے خیالات کا مکمل احترام کرتا ہوں ، بورڈ میں کسی قسم کی تقسیم یا گروپنگ نہیں، انہیں بورڈ کے پیٹرن ان چیف ویزر اعظم نواز شریف نے نامزد کیا ہے اور وہ ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ ہیں، شہریار خان ، میں ایک منتخب چیئرمین ہوں اور یقیناً میری بات کی اہمیت ایک نامزد رکن سے زیادہ ہوتی ہے، پڑوسی ملک سے کرکٹ سیریز نہ کھیلنے سے پاکستان کرکٹ کی بقا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، چیئرمین پی سی بی ،ہمارا مقصد ٹیموں کی تعداد کو کم کرنا ہے تاکہ ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کے معیار کو بلند کر سکیں،ہمارے ڈومیسٹک سسٹم میں 24 ٹیمیں ہیں اور یہ تعداد دنیا میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں سب سے زیادہ ہے، انٹرویو
بنوں،مخصوص نشست پر کامیاب پی ٹی آئی ضلع کونسلر معروف النساء کو قتل کر نیکا دھمکی آمیز خط موصول ، ایک ہزار روپے کا نوٹ کفن کیلئے خط کے ساتھ باندھا گیا ہے آج حلف لینے سے منع کرنے کی تاکید خط کا متن:
مخصوص نشست پر کامیاب ہونیوالی پاکستان تحریک انصاف کے ضلع کونسلر معروف النساء کو قتل کرنے کی دھمکی آمیز خط موصول ،ایک ہزار روپے کا نوٹ کفن کیلئے خط کے ساتھ باندھا گیا ہے آج خلف لینے سے منع کرنے کی تاکید خط کا متن ۔تفصیلات کے مطابق ضلع بنوں کے علاقہ یونین کونسل غوریوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون معروف النساء کو بذریعہ ڈاک ایک خط موصول ہوئی ہے جسپر افسر علی پختون گروپ تحریک طالبان پاکستان لکھا گیا ہے خط کا پشتو زبان میں لکھا گیا ہے خط کا متن ہے تحریک کی طرف آپ کے نام سے معروف النساء ولد رفیق خان خلف برداری کے روز 29اگست کو کفن خریدنے کی اطلاع دی جاتی ہے کفن کیلئے ہم اپنی طرف سے ایک ہزار روپے بھیج دیئے ہیں خط میں یہ لکھا گیا ہے کہ آپ کی جنازہ ادا کرنے والوں کا بھی یہی خشر ہوگا کیونکہ خواتین کو سیا سی میدان میں آنا شریعت کے منافی ہے خط کے اُوپر کے حصہ پر البانی تحریک بیت اللہ محسود امیر تحریک امیر التحریک ملا فضل اللہ اور ملا عمر مرحوم لکھاگیا ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)